CHITRALI NEWS

شہید بے نظیر بھٹو ایوارڈ میں چترالی اور شمالی ادیبوں کو بھی شامل کیا جائے

Posted in Uncategorized by chitralinews on مارچ 11, 2010
گرامئی قدر جناب
فخر زمان صاحب
چیرمین اکادمی ادبیات پاکستان
اسلام آباد
مضموںن:شہید بے نظیر بھٹو ایوارڈ میں چترالی اور شمالی ادیبوں کو بھی شامل کیا جائے
اسلام علیکم
آپ کی توجہ مندرجہ زیل امور کی طرف دلانا مقصود ہے
جناب والا نے اکادمی ادبیات پاکستان کے چیرمین کا عہدہ سنبھالنے کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے حوالے سے لکھے جانے والے پاکستانی زبانوں کے ”شہید بے نظیر بھٹو ایوارڈ“ کے اجراء کی منظوری دے دی ہے۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ یہ ایوارڈ 2008ء اور 2009 میں محترمہ بے نظیر بھٹو پر پاکستانی زبانوں میں لکھی جانے والی نظم یا نثر کی بہترین کتاب پر دیا جائے گا۔ لیکن آپ کے ادارے نے چترال، سوات، گلگت بلتستان، شیغنان(افعانستان)، ھندوستان اور سنکیانگ(چین) میں بولی جانے والی زبان کھوار کو ایوارڈ کی لسٹ سے نکال دیا ہے جو کہ اس زبان اور اس کے بولنے والوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔ شھید بے نظیر بھٹو ایوارڈ سوائے چترالی زبان (کھوار) کے ہر زبان کو دیا جائے گا اور  ہر زبان کی ایک بہترین کتاب کے لئے ایوارڈ کی رقم فی کتاب ایک لاکھ روپے ہوگی۔ لیکن چترالی زبان کا نام ایوارڈ لی لسٹ سے نکالنے سے چترال اور شمالی علاقہ جات کے ادیب اس ایوارڈ سے محروم ہوجائیں گے۔ ”شہید بے نظیر بھٹو ایوارڈ“ کے اجراء کا مقصد محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو بطور دانشور اور رائٹر خراج عقیدت پیش کرنا ہے۔ لیکن ایوارڈ لی لسٹ میں کھوار زبان کا نام نہ ہونے کی وجہ سے چترالی اور شمالی شھید بے نظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرنے سے قاصر ہونگے۔  محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پاکستان کے دیگر علاقوں کی طرح چترال اور شمالی علاقہ جات کے دانشوروں نے بھی اس لیڈر کو خراج عقیدت پیش کیا ہے لہٰذا جو بھی علاقائی ادیب جس نے شاعری اور آرٹیکل کی صورت میں بھی محترمہ بے نظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کیا ہے اسے بھی ایوارڈ اور تعریفی اسناد سے نوازا جائے  بلکہ ۔ محترمہ کی شہادت پر پاکستان کی تمام زبانوں میں رائٹرز نے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو اپنے اپنے طور پر خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ ان میں کھوار زبان اور دیگر چترالی اور شمالی زبانوں کے ادیب شامل ہیں۔ لہٰذا میں بحیثیت چترالی ادیب، اور دانشور کے اکادمی ادبیات پاکستان سے گزارش کرتا ہوں کہ چترالی اور شمالی زبانوں کو بھی ایوارڈ میں شامل کیا جائے اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید پر لکھی جانے والی اردو، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، سرائیکی اور انگریزی زبان کی نظم یا نثر کی شاعری، مضمون اور ایک ایک بہترین کتاب پر ایوارڈ دیا جائے۔ اور چترالی اور شمالی زبانوں کی کتابوں پر ماھرانہ رائے کے لیے میں اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کررہا ہوں۔ امید ہے کہ آپ بحیثیت صدر نشین چترالی اور شمالی زبانوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہونے دیں گے اور پاکستان کے نامور دانشوروں(بشمول چترال اور شمالی علاقہ جات)پر مشتمل ججز کی کمیٹیاں تشکیل دے کر اپنا فرض پورا کریں گے۔
ایک بار پھر میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کررہا ہوں
خیراندیش
رحمت عزیز چترالی
Advertisements

One Response

Subscribe to comments with RSS.

  1. Rahmat Aziz Chitrali said, on مارچ 25, 2010 at 8:17 صبح

    چترال میں عالمی یوم شاعری منایا گیا

    Khowar-Chitrali poets observed World Poetry Day in Chitral

    چترال:(رپورٹ: رحمت عزیز چترالی) اقوام متحدہ کی طرف سے اعلان کردہ عالمی یوم شاعری ڈے کے موقع پر پاکستان اور دنیا بھر کی طرح چترال میں بھی عالمی یوم شاعری منایا گیا۔ چترال کے بالائی علاقے کھوت میں شاعروں نے اس دن کو خوشی کے ساتھ منایا۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس دن کو منانے کا مقصد شاعروں کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرنا اور معیاری ادب کی تخلیق کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ چترال کے شاعروں نے اس موقع پر ان کی زبانوں کو حکومتی سطع پر نظر انداز کرنے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ چترال میں بولی جانے والی ١٤ زبانوں کو پاکستان ٹیلی ویژن میں نمائندگی دی جائے۔ اور حکومت چترالی شعرا کی کتابوں کو شایع کرنے کے لیے انجمن ترقی کھوار اور کھوار اکیڈمی کو گرانڈ فراہم کرے جو کہ ان کا بنیادی حق ہے۔

    اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم‘ سائنس اور کلچر (یونیسکو) نے 21 مارچ کو عالمی سطح پر اس دن کو منانے کا اعلان 1999ء میں کیاتھا ۔ شاعری ایک کائناتی حیثیت رکھتی ہے اور کوئی بھی فن اس کے بغیر نامکمل ہے۔چترال کے شعرا کے ساتھ ھمیشہ سے ہی امتیازی سلوک ہورہا ہے اس اس امتیازی سلوک کے خلاف چترال کے شعرا شدید احتجاج کررہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چترالی شعرا کو ان کا جائز حق دیا جائے۔ اور ان کے ساتھ نا انصافی نہ کی جائے۔


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: