CHITRALI NEWS

About

This is an example of a WordPress page, you could edit this to put information about yourself or your site so readers know where you are coming from. You can create as many pages like this one or sub-pages as you like and manage all of your content inside of WordPress.

4 Responses

Subscribe to comments with RSS.

  1. Rahmat Aziz Chitrali said, on نومبر 20, 2009 at 7:48 صبح

    چترالی اور کالاش عوام کو چینی کی سرکاری سطح پرفراہمی شروع کی جائے۔

    Sugar Shortage in Chitral and Kalash Valleys of Pakistan
    سرِعام۔۔۔۔۔۔۔۔ رحمت عزیز چترالی

    لواری ٹاپ بند ہونے سے قبل چترال کے بازاروں سے چینی غا ئب، عوا م کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اگر لواری ٹاپ بند ہوجائے تو چترالی اور کالاش عوام کو چینی کے لیے مزید 6 مہینے انتظار کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ہر سال باشندگان چترال لواری ٹاپ کی بندش سے باقی ماندہ پاکستان سے بالکل کٹ کے رہ جاتے ہیں۔کیونکہ چترال جائے اور چترال سے آنے کے لیےواحد زمینی راستہ لواری ٹاپ ہے۔ اور یہ راستہ عنقرییب بند ہوجائے گا۔ لواری ٹنل پر کام بھی سستی کا شکار ہے۔ چترال کے سیاسی نمائندے اسمبلی کے فلورز پر چترال کے بنیادی حقوق کے اس لیے بات نہیں کرتے کیونکہ ان کی باتوں سے حکومت کو تکلیف پہنچنے کا خدشہ ہے۔ راقم جب خیبر نیوز ٹی وی کے لیے شھزادہ محی الدین کا انٹرویو کیا تو انھون نے چترال کے مسائل کو اسمبلی کے فلورز پر نہ اٹھانے کے سوال کے جواب میں یہ جواز پیش کی کہ حکومت چترال کے مسائل کے حل کے کوشاں ہے۔ میں خواہ مخواہ اسمبلی کے فلور پر بات کرکے حکومت کو ناراض نہیں کرسکتا۔ چلو ماں لیتے ہیں کہ شہزادہ صاحب حکومت کو ناراض نہیں کرسکتے لیکن چترالی اور کالاش عوام کے چینی کی سرکاری سطح پر فراہمی کو یقینی تو بناسکتے ہیں۔ یا یہ کام بھی عوام کو خود ہی کرنا پڑے گا۔ حکومت کی ہدایت پرٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے ملک بھرمیں رعایتی نرخ پرچینی کی فراہمی کیلئے یوٹیلٹی اسٹورزکارپوریشن کو41ہزارمیٹرک ٹن چینی کی سپلائی شروع کردی،چینی صارفین کو38روپے فی کلومہیاکی جائے گی اورحکومت کواس پرایک ارب روپے سے زائدکاخسارہ برداشت کرنا پڑرہاہے ،یوٹیلٹی اسٹورزکارپوریشن کے حکام کا کہنا ہے کہ چینی کی فراہمی کاکارپوریشن10روزمیںمکمل کرلیاجائے گا اوریہ چینی ہزاریوٹیلٹی اسٹورزپردستیاب ہوگی یوٹیلٹی اسٹورزکارپوریشن آف پاکستان کے ایم ڈی عارف خان کا کہنا ہے کہ یوٹیلٹی سٹورزکے پاس چینی وافرمقدارمیں موجود ہے ، مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائیکی جائے گی ان کا کہنا تھا کہ اگرکہیں کسی سٹورپرمصنوعی کمی پیداکی جارہی ہے اس کی شکایات یوٹیلٹی سٹورزکے ہیڈآفس میں کی جائے جس کابروقت نوٹس لیاجائے ان کاکہناتھا کہ تمام یوٹیلٹی سٹورزکوروزانہ 2کلوچینی کے 700سے ایک ہزاربیگ فراہم کئے جارہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں چینی کی قلت موجود ہے جیسے دورکرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں یوٹیلٹی اسٹورزکارپوریشن کے ایم ڈی عارف خان کاکہنا ہے کہ مہنگی چینی فروخت کرنے پرادارے 150افراد کوفارغ بھی کیاجاچکا ہے اورآئندہ بھی کوئی اہلکاربدعنوانی کامرتکب پایاگیا تواس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی ،حکومت کی جانب سے چینی کی برآمدکافیصلہ خوش آئندہے اس سے شوگرملزمافیا بھی کنٹرول ہوگا،حکومت کوچاہیے کہ چترال او کالاش کے عوام کو بھی چینی مستقل بنیادوں پرسرکاری کنٹرول میںفروخت کی جائے اورشوگرملوں سے حکومت کنٹرول ریٹس پرخریدکریوٹیلٹی سٹورزکے ذریعے صارفین کوفراہم کرے توچینی کے بحران کامستقل خاتمہ ہوجائے گااورصارفین کوبھی سہولت فراہم ہوگی اورصارفین شوگرمافیا کی اجارہ داری سے محفوظ رہیں گے اوراجارہ داراداروں کوبھی اپنی پالیسیوں پرمجبواً نظرثانی کرناپڑے گی۔ چترال اور کالاش کے عوام شھزادہ محی الدین، غلام محمد اور سلیم خان سے نہیں بلکہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ انھیں بھی پاکستان کے دیگر شھریوں کی طرح بنیادی حقوق دئے جائیں۔ چینی کی سرکاری سطح پرفراہمی چترالی اور کالاش عوام کا بھی حق ہے۔ امید ہے حکومت اس سلسلے میں اپنا فرض ادا کرے گی۔

  2. Akbar Ali said, on فروری 2, 2010 at 9:47 صبح

    چترال اور کالاش (کافرستان)میں مزاحیہ اردو ادب کا آغاز و ارتقاء۔۔۔۔مختصر جائزہ
    Urdu Humorous Literature in Chitral and Kalash Valleys of Pakistan
    تحریر: اکبر علی

    چترال میں اردو زبان کے شعراءوادباء، صحافی اور نثر نگاروں کی کثیر تعداد موجود ہے۔اور وہ اردو کےفروع میں مصروف ہیں۔چترال کے اخبارات(١) ،رسائل(٢)اور ادبی خبرناموں میں کھوار زبان کے ساتھ ساتھ اردوزبان میں بھی مظامیں، شاعری اور خبریں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اردو نثروشاعری میں چند کتابیں شا یع ہو چکی ہیں لیکن اردو زبان میں طنزو مزاح پر مبنی صرف ایک کتاب (٣)کھوار اکیڈمی نے شائع کی ہےاس کتاب میں شاعری کے ساتھ ساتھ کتاب کے شروع کے صفحات میں مختصرامزاحیہ نثر بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔زیز نظرمقالے میں ہم چترال اور کالاش (کافرستان)میں مزاحیہ اردو ادب کا آغاز و ارتقاءکا مختصرا جائزہ لیں گے۔

    چترال اور کالاش (کافرستان)میں اردو زبان میں طنزومزاح میں کھوار اکیڈمی کراچی(٤) نے نوجوان مزاح نگار رحمت عزیز چترالی کی کتاب گلدان رحمت کے نام سے ١٩٩٦میں شائع کی(٥)۔ چترال میں اس سے پہلے اردو طنزومزاح میں کوئی کتاب شائع نہیں ہوئی تھی۔اس لیے رحمت عزیز چترالی کو چترال میں اردو کا پہلا مزاح نگار اور پہلا صآحب دیوان اردو شاعر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔اپنی شاعری انھوں نے معاشرتی برائیوں پر مزاحیہ اور طنزیہ انداز میں تنقید کی ہےاور معاشرتی برائیوں کے حل کے لیے اپنی شاعری کا سہارا لیا ہےجوکہ قابل تحسین ہے۔ایک جگہ یوں رقمطراز ہیں۔

    لوگ کہتے ہیں کہ درندہ ہے مچھر
    میرے خیال میں اک چھوٹا سا پرندہ ہے مچھر
    خون ابن آدم کا دن رات پی کر
    مگر سامنے انسان کے شرمندہ ہے مچھر(٦)

    رشوت ایک معاشرتی ناسور ہے اس ناسور کے بارے یوں کہتے ہیں

    ضلع مذاقستان کا میں افسر ہوں سائیں
    آہ! ایک چوکیدار سے بد تر ہوں سائیں
    صبح کوآرام سے رشوت کھاتا ہوں میں
    شام کوروپے بینک میںجمع کرواتاہوں میں
    کسی دن نہ مل جائےمچھے رشوت اگر
    دیکھنے آتے ہیں مجھے ڈاکٹر پہ ڈاکٹر (٧)

    رحمت عزیز چترالی نے شوہر اور بیوی کی نوک جھونک کوبھی اپنی شاعری کا موضوع بنایاہے ملاحظہ کیجئے۔

    بیوی اک تھپڑ رسید کر کے شوہر کو
    سسر اور ساس کو بھی مکھن لگانے لگی
    جانے کیا چپکے سے بیوی نے ساس سے کہدیا
    جانے کیوں شوہر پہ افسردگی چھانے لگی (٩)

    رحمت عزیز کو تضمین اورپیروڈی میں بھی کمال حاصل ہے۔دیگر شعرا کی سنجیدہ شاعری اور ان کی زمیں پر مزاحیہ شعر کہنا مشکل ہے لیں انھوں نے اس فن میںمہارت حاصل کی ہے۔ ملاحظہ کیجئے

    یہاں ہر روز بیرہ بغیر ٹب کے روتا ہے
    بڑی مشکل سے ہوتاہے کراچی میں ویٹر پیدا (١٠)

    ٹیلی فون آپریٹرز کے مسائل کے بارے یوں کہتے ہیں

    سپاہی ترقی کرتے کرتے حوالدار بنا
    حوالدار ترقی کرتے کرتے تھانہ دار بنا
    ادنی سا کلرک بھی سرمایہ دار بنا
    آپریٹر خوار ابن خوار، ابن خوار بنا(١٢)

    شاعر کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ ہر موضوع پہ بات کرتا ہے۔ رحمت عزیز بھی ہر موضوع پر شاعری کی ہے کبھی وہ حلوہ پوری کی بات کرتا ہے تو کبھی ناشتے کی بات کرتا ہے ملاحظہ کیجئے

    پوری نہ چھولے نہ حلوہ چاہئے
    میں بھی ہوں بھوکا مجھے ناشتہ چاہئے
    جس سے خوش ہو بیگم میری
    مجھے ایسا ماڈرن تحفہ چاہئے(١٣)

    رحمت عزیزایک اور مقام پر بھیک مانگنے کے نئے انداز کے بارے میںیوں کہتے ہیں

    ایک لاکھ روپے کا سوال ہے بابا
    یہ سوال ہے اک ماڈرن فقیر کا
    اے عزیز لوگ مزاق اڑائیں گے
    تیری اس سیاسی تحریر کا (١٤)

    آپ کی شاعری میں جابجا سیاست اور سیاستدانوں کا مزاق اڑایا گیا ہے اور ان کی اصلیت کے بارے بتایا گیا ہے کہ ووٹ لینے کے بعد سیاستدانوں کا رویہ کیاہوتا ہے ملاحظہ کیجئے

    وزارت سے پہلے لیے تھے جو قرضے
    ان کومیںآج معاف کرالوں پہلے (١٥)

    شریک حیات کی صفات اور اس میں کیا کوالیٹیز ہونی چاہئےاور آج کل کے نوجوان کس قسم کی بیوی چاہتے ہیںاس کاتزکرہ اس شعر میں ملتا ہے

    ہر نوجواں کو درکار ہے بیوی
    سر پہ لٹکی ہوئی ایک تلوار ہے بیوی
    اے رحمت تیری دعاوں میں اثر چاہیے
    غموں کو سہنے کے لیے چیتے کاجگر چاہیے (١٦)

    سیاستدانوں کے لیے تعلیم کی کتنی ضرورت ہے اس کا جواز یوں پیش کرتے ہیں

    کوئی قید نہیں تعلیم کی آج
    سیاسی اصطبل میں آنے کے لیے(١٧)

    جتنے بھی بڑے لوگ ہیں وہ کتے رکھنے کے شوقین ہوتے ہیں کتے رکھنے کے کئی فوائد ہیں ایک فائدہ یہ بھی ہے مہمان کتے کو دیکھ کر آنا ہی چھوڑ دیں اس صورت حال کو رحمت عزیز نے یوںنظم کیاہے

    مہمانوں سے تنگ آکر اس نے
    کتا رکھا ہے ان کو بھگانے کے لیے (١٨)

    ملک بھر میں موجود گھوسٹ سکولوں کے بارے یوں کہتے ہیں ملاحظہ کیجئے

    پیارے بچو!تمہاری پڑھائی سر آنکھوں پر، مگر پڑھوگے کیا
    اسکول میں ٹیچر تک نہیں ہے پڑھانے کے لیے (١٩)

    رحمت عزیز چترالی کی اکثر شاعری صنف نازک کے گرد گھومتی ہے اور اپنی شاعری میں انھوں نے ان طنز کی ہے اور اقبال کی زمیں پر اچھے شعرکہے ہیں

    تندئ صنف نازک سے نہ گھبرا اے عزیز
    یہ تو ہوتی ہے فقط شور مچانے کے لیے (٢٠)

    کراچی کے ضلع مالیر عدالت کا قیام عمل لایا گیا اور وکیلوں کے ساتھ ساتھ سائلوں کو بھی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورت حال کو یوں بیاں کرتے ہیں

    مدعی ناتھا خان(٢١)پر کہتا تھا کہ اب جاوں کدہر
    گم ہوا کیس سٹی کورٹ میں ، ایف آئی آر مالیر میں (٢٢)

    بھیک مانگنے کے نئے طریقے اور ماڈرن فقیروں کے بارے یوں کہتے ہیں

    نہیں کھاوں گا دال، چکن تکا دے مجھکو
    اگر بس میں نہیں ہے تمہارے تو پھر بتا دے مجھکو
    جاتے وقت کچھ نہ کچھ ڈال دیجئےگا اس میں
    کشتی خالی ہے پلیز! اتنی نہ سزا دے مجھکو(٢٣)

    آپ کی شاعری میں محبت اور عداوت کا بھی زکر ملتا ہے ملاحظہ کیجئے

    نہ میں نے کسی سے محبت کی ہے
    اور نہ کسی سے عداوت کی ہے
    دیوانوں کی کورٹ میں
    میں نے وکالت کی ہے (٢٤)

    وہ جو علامہ اقبال نے کہا تھا کہ

    جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی
    اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو

    لیکن رحمت عزیز نے اقبال کے اس شعرکی اس انداز سے پیروڈی کی ہے ملاحظہ کیجئے

    جس کورٹ سے پیشکار کو میسر نہ ہو رشوت
    اس کورٹ کے سارے مقدموں کو جلادو(٢٥)

    اردو زبان میں انگریزی الفاظ کی بھرمار کے بارے یو ں کہتے ہیں

    آجکل امی کو ممی کہتے ہیں بچے
    ابو کو ڈیڈی کہتے ہیں بچے
    بھیا کو برادر بناے آج
    چچی کو آنٹی کہتے ہیں بچے (٢٦)

    معاشرے کو بگاڑنے میں سفارش اور رشوت کابڑا ہاتھ ہے۔ سفارش اور رشوت ہی وہ معاشرتی برائیاں ہیں جو معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں اس صورت حال کو یوں بیاں کیا ہے۔

    آج تم آئنے میں اپنی صورت دیکھو
    معاشرے میںسفارش اور رشوت دیکھو
    موجود ہیں ہزاروں راشی یہاں
    ان کی تم ہر جگہ عزت دیکھو (٢٧)

    دوران تحقیق چترال اور کالاش(کافرستان)کے کسی اورادیب اور شاعر کا کلام نظر سے نہیں گزراسوائے رحمت عزیز چترالی کی کتاب گلدان رحمت اور ان کے بادشمال شدہ اخباری کالم (حرف ظرافت)اور ماہنامہ ظرافت کراچی،اور ماہنامہ چاند لاہور میں شایع شدہ انکے فکاہیہ کالمز اور مزاحیہ شاعری سے مددلی گئی ہے۔ پورے چترال اور کالاش میں اردو طنز ومزاح میں صر ف ایک ہی کتاب شایع ہوئی ہے اوراس کتاب میں نظم و نثر دونوں میں طنزیہ و مزاحیہ انداز میں پیرایہ اظہار ملتا ہے۔ یہ کتاب ١٩٩٦میں کرﺍچی سے چھپی ہے لیکن آج ٢٠١٠میں بھی چترال اور کالاش میں مزاحیہ ادب میں کوئی کتاب منظر عام پہ نہیں آئی اگر یہی صورت حال جاری رہی ﺘﻭرحمت عزیز چترالی کی کتاب چترال میں اردور طنز و مزاح کی پہلی اور آخری کتاب ثابت ہوگی۔

    حوالہ جات:

    ١۔ہفت روزہ تریچ میر، ہفت روزہ ہندوکش، ہفت روزہ چترال ٹائمز، ہفت روزہ آواز چترال، ہفت روزہ صدائے چترال، پندرہ روزہ چترال وژن
    ٢۔ تریچ میر میگزین، ماہنامہ شندور، نوائے چترال، بزم کھوار، ہمکلام، ماہنامہ ژنگ
    ٣۔چترالی، رحمت عزیز،گلدان رحمت(اردو طنزیہ و مزاحیہ مجموعہ کلام) کھوار اکیڈمی، کراچی ١٩٩٦
    ٤۔ کھوار اور دیگر چترالی زبانوں کے فروع کے قائم ادبی تنظیم
    ٥۔چترال اور کالاش کافرستان سے اردو زبان میں طنزیہ و مزاحیہ شاعری کی یہ پہلی کتاب ہے
    ٦۔چترالی، رحمت عزیز،گلدان رحمت(اردو طنزیہ و مزاحیہ مجموعہ کلام)ص١٨ کھوار اکیڈمی، کراچی ١٩٩٦
    ٧۔ایضا ۔۔۔۔فریاد— سائیں، رشوت اور گدھا ص ٢٦
    ٨۔ایضا ص ٢٩
    ٩۔ایضا ۔۔۔پیش گوئیاں ص ٣٠
    ١٠۔ایضا ۔۔۔ٹیلی فون آپریٹر ص ٣٢
    ١١۔ایضا۔۔۔گیت ٢١ویں صدی کا، درخواست یا فریاد، ص ٣٩
    ١٢۔ایضا ۔۔۔ ص ٥٨
    ١٣۔ایضا۔۔۔ ص٧٣
    ١٤۔ایضا۔۔۔ ص ٧٤
    ١٥۔ایضا۔۔۔ مکسچر ص ٨٤
    ١٦۔ایضا۔۔۔ مکسچر ص ٨٤
    ١٧۔ایضا۔۔۔ مکسچر ص ٨٤
    ١٨۔ایضا۔۔۔ مکسچر ص ٨٤
    ١٩۔ کراچی میں واقع ایک علاقے کا نام جوکہ ضلع مالیر میں آتا ہے
    ٢٠۔ چترالی، رحمت عزیز،گلدان رحمت(اردو طنزیہ و مزاحیہ مجموعہ کلام)ص٨٦ کھوار اکیڈمی، کراچی ١٩٩٦
    ٢١۔ ایضا۔۔۔ ماڈرن فقیر ص ٩٢
    ٢٢۔ ایضا ۔۔۔ حلفیہ بیان ص ١١١
    ٢٣۔ ایضا۔۔۔ رشوت ص ١١٢
    ٢٤۔ ایضا ۔۔۔ نئی نسل ص ١١٢
    ٢٥۔ ایضا ۔۔۔ عزت ص ١١٢

  3. Akbar Ali said, on فروری 2, 2010 at 9:49 صبح

    چترال میں اردو صحافت کاآغاز و ارتقار۔۔۔۔۔ مختصر جائزہ
    Urdu Journalism in Chitral

    تحقیق و تحریر اکبر علی

    چترال میں اردو صحافت کے آغاز و ارتقا میں چترالی صحافیوں کا بڑا کردار ہے۔ چترال کے چند ممتاز اردو صحافیوں میں میں ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی، محمد شریف شکیب، رحمت عزیز چترالی، محمد یوسف شہزاد، محکم الدین، محمد رحیم بیگ خاکسار، ایچ رحمان، بشیر حسین آزاد، شاہ مراد بیگ، اور دیگر صحافی شامل ہیں۔ ویسے تو چترال میں اور بھی صحافی موجود ہیں اور وہ انگریزی میں لکتھے ہیں ان میں زار عالم خان رضاخیل اور ظہیرالدین شامل ہیں لیکن ہمارے مقالے کا موضوع چترال میں اردو صحافت کا آغاز و ارتقا۔۔۔۔ مختصر جائزہ ہے اس مقالے میں ہم چترال میں اردو صحافت کا جائزہ لیں گے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور کشمیر کی طرح چترال اور کالاش (کافرستاں) میں بھی اردو زبان وادب کےفروع و ارتقا کے ساتھ ساتھ اردو صحافت کوبھی فروغ ملا ۔چترال میں اردو صحافت کو فروع دینے میں مولانا صاحب الزمان، پروفیسر اسرار الدین،محمد شریف شکیب، عنایت اللہ فیضی،گل نواز خاکی، ونگ کمانڈر فرداد علی شاہ، سیف الرحمان عزیز، سردار عبدل رحمان ، محکم الدین، رحمت عزیز چترالی، محمد علی مجاہد، ایچ رحمان، ولی محمدچترالی اور مولانا محمد نصیر نے اہم کردار ادا کیا ہے، سب سے پہلے جس نے چترال میں اردو صحا فت کی بنیاد رکھی اور ہفت روزہ تیچ میر کا اجرا کیا وہ مولانا صاحب الزمان تھے اسکے بعد پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر اسرارا الدین نے دیگر چترالی طالب علموں کے ساتھ مل کر تریچ میر میگزین کا اجرا کیا، اسکے بعد چترال سے ونگ کمانڈر فرداد علی شاہ نے ہفت روزہ ہندوکش کا اجرا کیا، ١٩٩٧ میںمحمد علی مجاہد ، رحمت عزیز چترالی نے کھوار زبان کی نوزائیدہ تنظیم کے پلیٹ فارم سے دیگر اہل زوق چترالیون نے مل کر ماہنامہ شندور کا اجرا کردیا۔ اس کے بعد دروش سے شائع ہونے والے بزم کھوار میں بھی اردو سیکشن شامل کیا گیا،لیکن پروفیسر اسرار الدین نے بزم کھوار کے اردو سیکشن کی مخالفت کی تھی ان کا کہنا تھا کہ یا تو اس میگزین کا نام بزم کھوار نہیں ہونا چاہئے تھا اگر یہ بزم کھوار ہے تو اسمیں اردو سیکشن چی معنی دارد۔ بہر حال اس کے بعد ہفت روزہ چترال ٹائمز ، ماہنامہ ژنگ، صدائے چترال کا اجرا کیا گیا۔آخر الزکر دونوں نے اپنی اشاعت جاری نہیں رکھھ سکے۔ چترال کے دو نوجوان صحافیوںرحمت عزیز چترالی اور ایچ رحمان نے کھوار اکیڈمی کے پلیٹ فارم سے چترال وژن کے نام سے اخبار کا اجرا کردیا جو کہ چترال کا پہلا رنگین اخبار ہے اور اخباری سائز میں شائع ہورہا ہے باقی چترال میں جتنے بھی اخبار شائع ہورہے ہیں وہ اخباری سائز سے چھوٹے ہیں۔

    چترال کے تعلیمی اداروں میں اردو میں تعلیم دی جارہی ہے اس لیے یہاں اردو کے فروغ کے امکانات زیادہ رہے ہیں ۔آساتذہ طلبا سے اردو میں بات کرتے ہیں چترال کے قبائل کی ١٤ زبانیں ہیں وہ گو کہ چترال کی ١٤علاقائی زبانوں میں بھی روزمرہ گفتگو کرتے ہیں اور کرنی بھی چاہیئے کیونکہ ان کی زبانیں ابھی تحریری زبانیں(سوائے کھوار، کالاشہ اور پھالولا کے) نہیں بنی ہیں ۔ لیکن اسکے باوجود چترال کی ١٤ زبانیں بولنے والی قبائل کو اردو ضرور آتی ہے یہ ان کی مجبوری بھی ہے اور ضرورت بھی کہ وہ اردو جانیں کیونکہ یہاں کی عدالتوں، بازاروں اور تمام سرکاری دفا تر میں اردو زبان ہی میں گفتگو کی جارہی ہے۔ چترال میں آپ جہاں بھی جائیں اگر آپ کو چترالی زبانیں نہیں بھی آتی ہیں تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ چترال میں سب کواردو آتی ہے۔

    چترال میں اردو ادب اور صحافت کو فروع دینے میں بہت سے چترالیوں کاہاتھ ہے ان کی وجہ سے چترال میں اردو زبان و ادب اور صحافت کوفروغ ملا۔ چترال میں اردو ادب تمام اصناف موجود ہیں۔ علاقائی، ملکی اور بین الاقوامی سطح پر چترالیوں کی اردو زبان و ادب کے لیے خدما ت کا زکر ملتا ہے۔ بین الاقوامی جرائد میں چترالیوں کے تحقیقی مقالے شائع ہورہے ہیں۔ ان چترالیوں میں ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی اور رحمت عزیز چترالی کے نام سر فہرست ہیں۔

    جہاں تک چترال اور کالاش میں ارود کی صحافت کی بات ہے تو اس میدان میں بھی چترالیوں نے نمایاں خدمات انجام دیئے ہیں۔ آج جب چترال میں اردو زبان وا دب کے عروج وارتقا کی تاریخ پر جب نظر ڈالتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ آزادی سے بہت پہلے سے ہی ریاست چترال میں اردو کو مقبولیت حاصل تھی ، چترال کےشعرا اور ادیب فارسی اور دیگر علاقائی زبانوں کے ساتھ ساتھ اردو میں ادب تخلیق کرتے تھے۔

    آزادی سے پہلے گو کہ ریاست چترال سے کوئی اخبار نہیں نکلتا تھا البتہ چترالی طالب علموں نے ایک رسالہ شائع کرایا تھا جس کا عنوان چترال کے مظا لم تھا لیکن اسکی کاپی دستیاب نہ ہوسکا وجہ یہ ہے کہ جوں ہی یہ رسالہ منظر عام پہ آگیا تو چترال کے اس وقت کے مہتر نے اسکی ساری کاپیاں بحق سرکار ضبط کروانے کا حکم دیدیا اور یہ رسالہ نا پید ہوگیا ۔

    کھوار اکیڈمی کراچی میں چترالیوں اور چترالی زبانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو عدالتوں میں چیلنج کیا گیا تھا یہ مقدمات اکثر اردو زبان میں ہیں اور ابھی تک محفوظ ہیں ان دستاویزات کو شائع کرنے کی ضرورت ہے۔

    چترال میں اردو اور دیگر چترالی زبانوں کے قتل عام میں ریاست چترال کے حکمرانوں کا بڑا عمل دخل تھا انھوں نے چترالی زبانوں کی بجائے فارسی زبان کوریاست چترال کی قومی زبان کا درجہ دیا اور چترالی زبانوں کو پس پشت ڈال دیا۔ ریاست چترال میں مہتران چترال کے زمانے میں فارسی ہی سرکاری زبان کے طور پر یہاں بھی استعمال ہوتی رہی ۔ لیکن وہ چترالی عوام کی زبان نہیں بن سکی ۔ گوکہ چترال کے مداک لشٹ میں فارسی زبان بولی جاتی تھی۔ پاکستان کے ساتھ الحاق کے بعد عوام کے لیے دفاتر میں بھی جس زبان کو استعمال کیا گیا وہ اردو ہی تھی۔ اب چترال کے تعلیمی اداروں میں بھی اردو کو ذریعہ ٴ تعلیم کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے ۔

    چترال میں اردو صحافت کے فروع میں مولانا صاحب الزمان، ونگ کمانڈر فرداد علی شاہ، سیف الرحمان عزیز، سردار عبدالرحمان، محکم الدین، رحمت عزیز چترالی، ایچ رحمان اور محمد علی مجاہدکے نام قابل زکر ہیں ان صحافیوں نے چترال میں اردو صحافت کے فروع میں اپنے اخبارات اور رسائل کے زرئعے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی کاوشیں قابل صد ستائش ہیں۔ ان کے علاوہ زار عالم خان ، سید تکبیر حسن نے اپنی ویب سائیٹ چترال ٹوڈے کے زرئعے اردو صحافت کو فروع دینے میں مصروف عمل ہیں۔

  4. Akbar Ali said, on فروری 2, 2010 at 9:50 صبح

    چترال میں اردو شاعری کا مختصر جائزہ

    Urdu Poetry in Chitral

    تحقیق و تحریر اکبر علی

    چترال میں اردو شاعری کی ابتدا کب ہوئی اس حوالے سے تاریخ کے اوراق ھماری کوئی مدد نہیں کرتے (١) البتہ رحمت عزیز چترالی کے اردو طنزیہ و مزاحیہ مجموعہ کلام(٢) سے پتہ چلتا ہے کہ چترال میں اردو شاعری کی باقاعدہ کتابی صورت میں ابتدا ١٩٩٦ میں ہوئی۔ کیونکہ انکی کتاب بھی ١٩٩٦ میں کراچی سے کھوار اکیڈمی نے کتابی صورت میں شایع کی ہے۔ دوراں تحقیق راقم الحروف کو کسی اور چترالی شاعر کا شایع شدہ کلام دستیاب نہ ہو سکا۔ پہلا دستیاب شعر بھی رحمت عزیز چترالی کی کتاب(٣) سے اخذ کیا گیا ہے ملاحظہ کیجئے

    رب جلیل کی ثنا ہے بسم اللہ
    دین اسلام کی ضیا ہے بسم اللہ(٤

    اس مقالے میں ہم چترال میں اردو شاعری کے اصناف ادب کا مختصرا جائزہ لیں گے۔ چترال میں اردو شاعری کے تمام اصناف میں طبع آزمائی کی گئی ہے اور کچھ نئے اصناف ادب بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔ زیل میں ان اصناف ادب کا مختصرا تجزیہ کیا جاتا ہے۔

    منقبت:
    چترال میں ١٩٩٦ میں ہمیں اردو کی پہلی منقبت (٥) ملتی ہے اس منقبت میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی صفات بیاں کی گئئ ہیں اس صنف میں سب سے پہلے رحمت عزیز چترالی(٦) نے طبع آزمائی کی۔ جوکہ باقاعدہ تحریری صورت میںموجود ہے۔ کھوار زبان نے اردو، فارسی، ہندکو، سرائیکی کے اصناف ادب کو اپنے اندر من و عن جگہ دی ہے اردو میں شائع شدہ منقبت (٧) اسکی ایک تازہ ترین مثال ہے۔ رحمت عزیز چترالی کی پہلی اردو منقبت میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے اوصاف حمیدہ، انکی مجاہدانہ مساعی، ایمانداری، سخاوت، خدمت قران اور انکے فتوحات کا زکر ملتا ہے(٨) رحمت عزیز چترالی کے اس منقبت میں فارسی اور عربی الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ مثلا دیدہ عرفان، صاحب ایمان وغیرہ۔ (٩)

    اس منقبت میں خلیفہ سوم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے والہانہ عقیدت و محبت کا اظہار ملتا ہے ۔ اس منقبت نے اردو ادب میں کافی مقبولیت حاصل کی اور اسے مقبولیت حاصل ہونے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ منقبت خلیفہ سوم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شان میں کہی گئی ہے

    رحمت عزیز چترالی کے بعد ہیمں چترال بھر میں کسی اور شاعر کی شایع شدہ منقبت دستیاب نہ ہوسکی۔

    قطعہ:

    چترال میں اردو زباں میں پہلا قطعہ(١٠) بھی ہمیں رحمت عزیز چترالی کے کلام(١١) ہی میں ملتا ہے اس سے پہلے کسی چترالی شاعر کا کوئی قطعہ شایع ہوا ہے یا نہیں اس سلسلے میں تاریخی حقائق بالکل خاموش ہیں۔ رحمت عزیز چترالی کا قطعہ ملا حظہ کیجئے

    تیری صحبت میں ہم کو
    آج مرنا بھی گوارا ہے
    جو جل رہا ہے صبح و شام
    یہ دل بھی تو ہمارا ہے (١٢)

    رحمت عزیز چترالی کے اردو مجموعہ کلام میں صفحہ نمبر ١١٠ سے ١١٢ تک قطعات دئے گئے ہیں(١٣) ان قطعات کے بعد چترال کے ایک اور نوجوان شاعر مولانا محمد نقیب اللہ رازی نے اس صنف میں طبع آزمائی کی ہے ان کا ایک قطعہ کھوار اکیڈمی کے ماہوار خبر نامہ ژنگ میں شائع ہوا تھا(١٤) جو کہ تلاش بے سیار کے بعد بھی دستیاب نہ ہوسکا۔ دوران تحقیق پتہ چلا کہ مذکورہ بالا دونوں شعرا کے بعد اس صنف میں کسی اور شاعر نے طبع آزمائی نہیں کی۔

    مخمس:

    چترال میں اردو زبان میں مخمس(١٥) بھی ہمیں رحمت عزیز چترالی کی شاعری میں ملتی ہے اس نوجوان سے پہلے اردو زبان میں مخمس کسی اور شاعر کے کلام میں نہیں ملی۔ پہلا اردو مخمس بھی رحمت عزیز چترالی کا تحریر کردہ ہے تحقیق کے دوراں پتہ چلا کہ رحمت عزیز چترالی کی مخمس چترال میں اردو زباں کی پہلی مخمس ہے اسکے بعدکسی بھی چترالی شاعر نے اردو زبان میں مخمس نہیں لکھی۔ (١٦)

    حمد:

    چترال میں ہمیں ١٩٩٦ تک کوئی باقاعدہ اردو حمد تو نہیں ملی البتہ رحمت عزیز کے اردو مجموعہ کلام(١٧) میں چند حمدیہ اشعارملے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ پہلی بار اردو میں حمد رحمت عزیز کا تحریر کردہ ہے ملاحظہ کیجئے

    رب جلیل کی ثنا ہے بسم اللہ
    دین اسلام کی ضیا ہے بسم اللہ
    ورد کرتے رہا کرو اس کو
    اے عزیز ذکر خدا ہے بسم اللہ(١٨)

    ایک اور مقام پر شاعر(١٩) قران پاک کی تعریف کرتے ہوئے یوں رقمطراز ہیں ملاحظہ کیجئے

    قران ہے اللہ کا آخری کلام
    پڑھو اس کو روز و شب، صبح و شام
    ہر پڑھنے اور پڑھانے والے کو
    بڑا اجر دے گا خود خدائے کرام(٢٠)

    تحریری صورت رحمت عزیز کے علاوہ کسی اور شاعر کی اردو حمد دستیاب نہ ہو سکی۔١٩٩٦ کے بعد ٢٠١٠میں رحمت عزیز چترالی کی ایک حمد ہمیں انٹرنیٹ(٢١) کے ذریعے سے دستیاب ہو سکی ہے ملا حظہ کیجئے

    گناہوںسے مجھ کو بچا میرے مولا
    سیدھی راہ پہ مجھ کو چلا میرے مولا

    میرے گناہوں کی کوئی انتہا نہیں
    ان گناہوں کو مٹا میرے مولا

    جو انسان ہیں بیمار اس وقت
    ان کو شفا کر عطا میرے مولا

    تو ہے رحمان و رحیم خدایا
    ہوں میں خطا کا پتلا میرے مولا

    میرے عیب ہیں لا متناہی
    ان کو تو چھپا میرے مولا

    مانگتا ہوں پناہ دوزخ سے
    آگ سے مجھ کو بچا میرے مولا

    مانتا ہوں میں اپنی نافرمانیاں
    کرتا ہوں تجھ سے التجا میرے مولا(٢٢)

    چترال میں دوران تحقیق ہمیں کھوار حمد کے اردو تراجم بھی ملے ۔ کھوار حمد مع اردو ترجمہ ملا حظہ کیجئے

    رزق سفوتے عطا مہ رب کویان
    تان نعمتان اسپہ سورا روزوشب کویان
    ہتے زات باری تعالو تعریفان بیان
    عجم کویان وا عرب کویان
    کا مشکیران وا کا نو مشکیران
    مگم سفانتے ہے زات بے طلب دویان

    : اردو ترجمہ

    ساری کائنات کو رزق وہی میرا رب عطا کرتا ہے
    اور اپنئ بے شمار نعمتوں سے روز و شب ہمیں نوازتا ہے
    اسی زات باری تعالیٰ کی حمدو ثنا سارا عجم اور سارا عرب کرتا ہے
    کوئی اس زات سے مانگتاہے اور کوئی نہیں مانگتا ہے
    مگر ساری مخلوق کو وہی زات بے طلب عطا فرماتا ہے(٢٣)

    زمینہ اوچے آسمانا اسوس تو
    بوہرتو موژا گوغو زبانا اسوس تو
    تہ سار مہ کیہ حرکت کھوشت نو
    مہ ہردیا اوچہ ژانا اسوس تو
    باغ و بوستانا غیچھی گوسان
    ھر گمبوریو چھانہ اسوس تو
    انسانو روح دی قوض باوا
    تھڑخ ژان کھیدانا اسوس تو
    عزیزو غون گناھا مڑاغ
    کھوار شاعرو زبانا اسوس تو

    منظوم اردو ترجمہ:

    زمین و آسمان میں تو ہے
    پتھر کے بیج میں کیڑے کی زبان میںتو ہے
    تجھ سے میری کوئی حرکت چھپی نہیں
    میرے دل اور جان میں تو ہے
    باغ و بوستان میںبھی تو ہی تو
    ھر پھول کے پتے میں بھی تو ہے
    روح انسانی کے قفس عنصری سے پرواز کے وقت
    اور جان کنی کے وقت بھی تو ہے
    عزیز جیسے گناہگار اور خطا کار
    کھوار زبان کے شاعر کی زبان میں بھی تو ہے(٢٤)

    کھوار زبان سے اردو میں بے شمار حمد باری تعالٰی کے تراجم کرائے گئے ہیں،ایک کھوار حمد کا اردو ترجمہ ملاحظہ کیجئے

    اے خدائےتان غلطیو آوا تسلیم کومان
    تہ ھر حکموتے آوا تعظیم کومان
    تو صمد، تو واحد، تو احد خدایا
    ھیہ لوٷ آوا تسلیم کومان
    حکمان تہ پورہ کوریکو بچے
    کوشش بو اے رب عظیم کومان
    علم کندوری کہ مت دیتی اسوس
    ہو نون آوا تقسیم کومان
    تہ حکمتان کﯿﻪ ہوش کوما رے
    عزیزحاصل دینی و دنیاوی تعلیم کومان

    منظوم اردو ترجمہ:

    اے خدایا! میں اپنی کوتاہیوں کو تسلیم کرتا ہوں
    تیرے ہر حکم کی میں تعظیم کرتا ہوں
    توصمد، تو واحد اور تو ہی احد ہے
    اس بات کو میں صدق دل سے تسلیم کرتا ہوں
    تیرے احکام کو پورہ کرنے کے لیے
    کوششیں بہت اے رب عظیم کرتا ہوں
    تونے جو علم مجے عطا کی ہے
    اس علم کو میں آج دوسروں میں تقسیم کرتا ہوں
    تیری حکمتوں کو سمجنے کی خاطر
    عزیز حاصل دینی و دنیاوی تعلیم کرتا ہوں(٢٥)

    مناجات:

    چترال میں اردو زبان میں مناجات لکھنے والوں میں سب سے پہلا نام بھی رحمت عزیز چترالی ہی کا ہے ۔ اس کے علاوہ ہمیں کسی بھی چترالی شاعر کی اردو زبان میں مناجات نہیں ملی۔ (٢٦)

    نعت:

    چترال میں اردو زبان میں شائع شدہ نعت رسول مقبول بھی رحمت عزیز چترالی کی کتاب(٢٧) سے ہی ملے ہیں اس کتاب میں صفحہ نمبر ٧٩ سے ٨٢ تک نعت رسول مقبول کو جگہ دی گئی ہے ١٩٩٦ سے قبل ہمیں چترال میں اردو زبان میں شائع شدہ حمد نہیں ملی۔ گلدان رحمت(٢٨)میں کئی نتعتیہ اشعارشامل کئے گئے ہیں۔(٢٩)

    مرثیہ:
    چترال میں اردو مرثیہ نگاری میں پہلا نام رحمت عزیز چترالی کا ملتا ہے۔ ان کے اردو مجموعہ کلام (٣٠) میں اردو کا پہلا مرثیہ ہمیں ملتا ہے اس سے پہلے ہمیں کسی بھی چترالی شاعری کا اردو مرثیہ نہیں ملا۔ ١٩٩٦ سے لیکر ٢٠١٠ تک کسی اور شاعر نے اس صنف میں طبع آزمائی نہیں کی۔ (٣١)

    نظم:

    اردو نظم کی صنف چترال میں ١٩٩٦ میں متعارف ہوئی اس سے پہلے ہمیں تحریری صورت میں کسی بھی چترالی شاعر کی نظم دستیاب نہ ہو سکی۔ البتہ رحمت عزیز چترالی کی کتاب اردو مزاحیہ نظم کے چند نمونے ضرور مل جاتے ہیں۔ اردو نظم کا پہلا شاعر (شائع شدہ) رحمت عزیز چترالی کو قرار دیا جاتا ہے کیونکہ انھوں نےچترال میں اردو زبان میں آذاد اور پابند ہر دو قسم کی نطمیں کہی ہیں ۔(٣٢)

    نظم(آزاد)

    چترال میں کھوار زبان میں آزاد نظم آشور جان کی شکل میں موجود ہے آشور جان کے بعد کھوار زبان میں پروفیسر اسرار الدین اور رحمت عزیز چترالی آزاد کھوار نظم لکھ رہے ہیں۔ لیکن اردو زبان میں سب سے پہلے رحمت عزیز چترالی نے طبع آزمائی کی ہے(٣٣) اس کے بعد ایک چترالی خاتون گلشاد بیگم انصاری نے اردو میں آزاد نظم لکھی ہے(٣٤) ایک آزاد نظم کا نمونہ دیکھئے

    میرے قوم کے بے حس نمائندو، جواب دو

    رحمت عزیز چترالی

    میرے قوم کے بے حس نمائندو

    جواب دو

    میرے وطن کے غائب کردہ افراد

    ہیں کہاں؟

    جواب دو

    انھیں کس نے کیے غائب

    حکم کس کا تھا

    قصور کیا تھا ان کا؟

    جواب دو

    بحیثیت نمائندگان قوم

    تمھارئ ذمہ داری کیا ہے؟

    تمہیں پتہ ہے؟

    جواب دو

    کیجیئے گا احساس ذمہ داری

    نہ کیجئے وطن سے غداری

    ان معزز شھریوں کی

    با عزت رہائی

    کس کی ہے ذمہ داری

    جواب دو۔(٣٥)

    گلشاد بیگم انصاری چترالی کی نئی نسل کی شاعر ہ ہے انکی آزاد نظم ماہنامہ شندور میں شائع ہوئی تھی لیکن اس کی کاپی دستیاب نہ ہوسکی۔(٣٦)

    غزل

    چترال میں اردو غزل کے نمایان شعرا پائے جاتے ہیں ان میں نقیب اللہ رازی، انور الدین انور، چنگیز طریقی، صالح ولی آزاد اور رحمت عزیز چترالی کا نام اردو میں شاعری کے حوالے سے بڑا اہم ہے۔ ان شعرا کی اردو غزلیں شائع شدہ حالت میں موجود ہیں ان کے علاوہ کسی بھی چترالی شاعر کی اردو غزل دستیاب نہ ہو سکی۔ اردو زبان میں ہمیں شائع شدہ حالت میں پہلی کتاب گلدان رحمت (٣٧) ملتی ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اردو میں پہلا غزل بھی رحمت عزیز چترالی ہی نے لکھا ہوگا لیکن ممکن ہے اس سے پہلے بھی کسی چترالی شاعر نے اردو میں غزل لکھی ہو لیکن چترال میں اردو ادب کا مطالعہ کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اردو میں غزل کا پہلا شاعر رحمت عزیز چترالی ہی ہیں ان کا اردو زبان میں مجموعہ کلام(٣٨)١٩٩٦ میں شائع ہوا اس کتاب سے اردو غزل کے چند نمونے پیش کیے جاتے ہیں

    جس نے بھی تجھے دیکھا وہ بن گیا دیوانہ
    جدائی میں تیری بے قرار ہم بھی ہیں
    ایک لیلٰی کے لیے ھزاروں مجنوں
    عشق میں تیرے بے قرار ہم بھی ہیں
    راہ عشق میں دوست کی خاطر
    جان دینے کے لئے تیار ہم بھی ہیں(٣٩)

    رباعی

    چترال میں اردو زبان میں رباعی لکھنے والوں میں رحمت عزیز چترالی کا نام پہلے آتا ہے اس کے بعد ہمیں کسی اور شاعر کی رباعی نہیں ملی(٤٠)

    گیت

    چترال میں اردو زبان میں پہلا گیت بھی رحمت عزیز چترالی ہی نے لکھا ہے یہ ایک ملی نغمہ ہے اس میں شاعر وطن سے محبت کا اظہار اس انداز میں کرتا ہے ملا حظہ کیجئے

    اے ارض پاکستان
    تجھ پہ میری جان بھی قربان
    تو ہے میری شان پاکستان
    میری آن پاکستان
    پاکستان پاکستان۔(٤١)

    ہائکو

    چترال میں ہائکو کو متعارف ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ اس صنف کو چترال میں متعارف کرانے میں رحمت عزیز چترالی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اردو زبان میں سب سے پہلا ہائکو بھی انہی کا تحریر کردہ ہے ۔ (٤٢)

    ماہیا

    چترال میں ماہیا لکھنے والوں میں بھی سب سے پہلا نام رحمت عزیز چترالی ہی کا ہے چترال میں اسے متعارف ہوئے ابھی تھوڑا ہی عرصہ گزرا ہے۔ رحمت عزیز چترالی کی ماہیا کی چند مثالین دیکھئے

    بکری کا بچہ جب نکلتا ہے
    مست ہوتا ہے وہ خیالوں میں
    کھبی ادھر، کھبی ادھر اچھلتا ہے (٤٣)

    میرے پاس جو گھوڑا ہے
    اسکی تیز رفتاری کی بنا پر
    آزاد سے میں نے چھوڑا ہے(٤٤)

    سی حرفی

    چترال میں بولی جانے والی زبان کھوار میں سی حرفی کو تروئکی کے نام سے متعارف کرانے کے بعد رحمت عزیز چترالی نے اردو زبان میں بھی پہلا سی حرفی لکھا ۔ اردو زبان کو رحمت عزیز چترالی جیسے محسن اردو کو یاد کرنا چاہئے کہ وہ اپنی مادری زبان کھوار کے ساتھ ساتھ چترال میں اردو کے فروع مصروف ہیں اور اردو کی تمام اصناف میں شاعری کر رہے ہیں۔ چترال میں اردو زبان میں سی حرفی رحمت عزیز چترالی کا تحریر کردہ ہے ان کے بعد کسی بھی شاعر نے اس صنف میں طبع آزمائی نہیں کی۔ (٤٥)

    عارفانہ کلام

    چترال میں اردو زبان میں عارفانہ کلام بھی رحمت عزیز چترالی کے مجموعہ کلام سے مل جاتے ہیں۔ عارفانہ کلام کی صنف چترال میں ١٩٩٠کے لگ بھگ چترال میں متعارف ہوئی ہوگی کیونکہ رحمت عزیز کی کتاب ١٩٩٦ میں شائع ہوئی اور انھوں نے ١٩٩٠ میں عارفانہ کلام لکھی ہوگی تب جاکے ١٩٩٦ میں ان کی کتاب شائع ہوئی ہوگی۔ چترال میں باقاعدہ عارفانہ کلام کے عنوان سے ہمیں کسی بھی چترالی شاعر کا کلام دستیاب نہ ہوسکا جوکہ کسی اخبار،رسالے یا جریدے میں چھپ گیا ہو البتہ رحمت عزیز چترالی کی کتاب گلدان رحمت (٤٦)میں عارفانہ کلام کی چند مثالیں ضرور مل جاتی ہیں مثلا

    دین اسلام کی ضیا ہے بسم اللہ
    بیماروں کے لیے شفا ہے بسم اللہ
    پڑھتے رہا کرو صبح و شام لوگو
    ایک کامل دعا ہے بسم اللہ (٤٧)

    رحمت عزیز چترالی کی کتاب(٤٨) کے صفحہ ٤١ میں جھوٹ سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے جوکہ چترال میں اردو زبان میں عارفانہ کلام کی اچھی مثال ہے جیسے

    گناہ کی طر لے جاتا ہے جھوٹ
    وقار انسانی کو گراتا ہے جھوٹ
    بہت بڑی تباہی ہے جھوٹ
    منافق کی نشانی ہے جھوٹ(٤٩)

    اس کے علاوہ بھی رحمت عزیز کی اردو شاعری عارفانہ کلام کی کئی مثالیں مل جاتی ہیں جیسے

    ہر بدی سے بد تر ہے حسد
    گناہوں کا دفتر ہے حسد
    سب سے بڑا حاسد ہے شیطان
    پھر بھی انکے پیچھے جاتا ہے انسان
    حسد کی آگ میں حاسد جلتا رہتا ہے
    برباد اپنی نیکیوں کو کرتا رہتا ہے(٥٠)

    الغرض رحمت عزیز کی اکثر شاعر عارفانہ کلام سے بھری پڑی ہے کھبی وہ قران کی شان میں اشعار کہتا ہے تو کھبی روزے کے فضائل کی بات کرتا ہے جیسے

    قران ہے اللہ کا آخری کلام
    پڑھو اس کو روز و شب، صبح و شام
    ہر پڑھنے اور پڑھانے والے کو
    بڑا اجر دے گا خود خدائے کرام
    زکر ہے اس فرمان خداوندی میں
    کائنات کے عرض و طول کا(٥١)

    اسلامی شاعری

    چترال کی اردو شاعری میں ایک نیا اضافہ اسلامی انداز کا طرز شاعری ہے اسمیں دین اسلام، قران، نماز، روزہ، حج اور زکواہ کا زکر جا بجا ملتا ہے۔ چترال میں اس انداز کے اردو شاعری کے موجد رحمت عزیز چترالی کو ما نا جاتا ہے۔آپ کی اردو شاعری کے مجموعے میں کئی مقامات پر اسلامی شاعری کو جگہ دی گئی ہے مثلا

    روزہ ہے ایک برکت والی عبادت
    لامحدود ہے اس کے اجر عظیم کی وسعت
    روزہ فضل خداوندی کا آئینہ
    روزہ ہے رحمت کا ایک خزانہ(٥٢)

    مزاحیہ شاعری

    چترال میں اردو زبان میں طنزیہ و مزاحیہ شاعری کی باقاعدہ بنیاد ڈالنے والوں میں سب سے پہلا نام رحمت عزیز چترالی کا آتا ہے انھوں نے ١٩٩٦ میں کھوار اکیڈمی کے پلیٹ فارم سے کھوار زبان میں طنزیہ و مزاحیہ مجموعہ کلام کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں بھی مزاحیہ شاعری کی پہلی کتاب لکھی جوکہ نوجوان نسل خصوصا صنف نازک میں کافی مقبولیت حاصل کی کیونکہ اس مجموعے میں صنف نازک کی مزاحیہ انداز میں چوٹ کی گئی ہے۔ چترال میں اردو طنزیہ ومزاحیہ میں گلدان رحمت پہلی کتاب ہے اور رحمت عزیز چترالی کو اردو زبان کا پہلا صاحب دیوان اردو مزاحیہ شاعر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔ آپ کی طنزیہ و مزاحیہ شاعری کے چند نمونے ملاحظہ کیجئے

    نمکین غزل

    ملتی ہے پاکستان میں شوگر کبھی کبھی

    آتا ہے میرے دیس میں لوگر کبھی کبھی

    اپنے کئے کی صفائی پیش کرنے

    آتا ہے اس ملک میں ڈوگر کبھی کبھی

    آٹا اور چینی کی قطاروں میں لگ کر

    کھانے پڑتے ہیں عوام کو ٹھوکر کبھی کبھی

    یہاں مہذب انسانوں کی کمی نہیں، پھر بھی

    دکھائی دیتے ہیں عزیز کو جوکر کبھی کبھی۔(٥٣)

    نوحہ

    چترال میں اردو زبان میں نوحہ لکھنے کا رواج پہلے نہیں تھا۔ چترال میں اردو نوحے کو متعارف رحمت عزیز نے کروایا۔اردو میں کا پہلا نوحہ(٥٤) رحمت عزیز چترالی کا تحریر کردہ ہے ۔ ان کے بعد اس صنف نے کسی نے بھی طبع آزمائی نہیں کی۔

    دوہا

    چترال میں اردو میںدوحے کی صنف نئی روایت کی ابتدا ہے دوہے میں سب سے پہلا تجربہ بھی رحمت عزیز نے کیا ہے (٥٥) ان کے بعد کسی بھی چترالی شاعر نے اردو میں دوہا لکھنےکی ہمت نہیں کی

    چار بیتہ

    چار بیتہ بھی چترال کے اردو ادب کی صنف میں نئی ایجاد ہے پہلا چار بیتہ(٥٦) رحمت عزیز کا تحریر کردہ ہے۔ کھوار میں چار بیتہ کو رحمت عزیز نے چھورکی کے نام سے متعارف کرایا ہے جو کہ تحریری صورت میں موجود ہے اردو اور کھوار دونوں زبانوں میں چار بیتہ لکھنے والوں سب سے پہلانام رحمت عزیز چترالی کا آتا ہے

    مثلث

    چترال کے شعرا کے لیے اردو میں مثلث کی صنف ابھی نسبتا نئی ہے صرف ایک شاعر رحمت عزیز چترالی نے اس صنف میں طبع آزمائی کی ہے۔

    یک مصرعہ

    چترال میں اردو زبان میں یک مصرعہ بھی نئی ایجاد ہے۔ اسکے موجد رحمت عزیز چترالی کو قرار دیا جاتا ہے(٥٧) ان کے بعد کسی بھی چترالی شاعر کی یک مصرعہ نظر سے نہیں گزری۔

    مسدس

    مسدس اردو شاعری کی ایک اہم صنف رہی ہے۔ لیکن چترال میں اردو میں صرف ایک مسدس دستیاب ہوسکی ہے اور وہ بھی رحمت عزیز چترالی کا تحریر کردہ ہے ان کے بعد کسی اور چترالی شاعر نے اس صنف میں طبع آزمائی نہیں کی۔ چترال میں فارسی زبان میں معظم خان کی ایک مسدس ملتی ہے اور کھوار زبان میں کئی مسدس موجود ہیں لیکن چترال بھر میں رحمت عزیز چترالی کی اردو مسدس پہلی کوشش ہے۔ (٥٨)

    سنجیدہ شاعری

    چترال کے فداالرحمٰن فدا، امین الرحمن چعتائی، نقیب اللہ رازی، رحمت عزیز چترالی، ناجی خان ناجی، سجاد عالم ساغر، صالح ولی آزاد اردو زبان میں سنجیدہ شاعری کرتے ہیں ان شعرا میں صرف رحمت عزیز چترالی اور صالح ولی آزاد کا اردو مجموعہ کلام منظر عام پہ آچکے ہیں۔ گو کہ رحمت عزیز چترالی اردو کے مزاحیہ شاعر ہیں لیکن انکی سنجیدہ شاعری بھی تحریری صورت میں موجود ہے۔

    حوالہ جات
    ١۔ چترال میں اردو شاعری کے حوالے کوئی مستند حوالہ نہیں ملا
    ٢۔ ۔چترالی، رحمت عزیز، گلدان رحمت(اردو طنزیہ و مزاحیہ کلام) ناشر کھوار اکیڈمی کراچی ١٩٩٦
    ٣۔ایضا
    ٤۔۔چترالی، رحمت عزیز، گلدان رحمت(اردو طنزیہ و مزاحیہ کلام) ناشر کھوار اکیڈمی کراچی ١٩٩٦
    ٥۔اس منقبت سے پہلے ہمیں شائع شدہ حالت میں کوئی منقبت نہیں ملی، اس لیے چترال میں اردو زبان میں یہ پہلی منقبت ہے
    ٦۔ رحمت عزیز چترالی کے بعد اس صنف میں کسی نے بھی طبع آزمائی نہیں کی۔
    ٧۔ چترال میں اردو زبان میں یہ پہلی کوشش ہے
    ٨۔ ۔چترالی، رحمت عزیز، گلدان رحمت(اردو طنزیہ و مزاحیہ کلام) ناشر کھوار اکیڈمی کراچی ١٩٩٦
    ٩۔ ایضا
    ١٠۔ چترال میں اردو زبان میں ہمیں پہلا قطعہ شائع شدہ حالت میںملا وہ رحمت عزیز چترالی کا تھا۔
    ١١۔۔چترالی، رحمت عزیز، گلدان رحمت(اردو طنزیہ و مزاحیہ کلام) ناشر کھوار اکیڈمی کراچی ١٩٩٦
    ١٢۔ ایضا
    ١٣۔ ایضا
    ١٤۔ چترالی، رحمت عزیز، ایڈیٹر، خبرنامہ کھوار اکیڈمی،کراچی
    ١٥۔ چترال میں اردو زبان میں پہلا مخمس بھی رحمت عزیز چترالی کا تحریر کردہ ہے
    ١٦۔ دوران تحقیق کسی اور شاعر کی مخمس دستیاب نہ ہوسکی
    ١٧۔ ۔چترالی، رحمت عزیز، گلدان رحمت(اردو طنزیہ و مزاحیہ کلام) ناشر کھوار اکیڈمی کراچی ١٩٩٦
    ١٨۔ ایضا
    ١٩۔ ایضا
    ٢٠۔ ایضا
    ٢١۔ یہ حمد ہمیں کھوار اکیڈمی کی ویب سائٹ اور چترالی ٹائمز کی ویب سائٹ سے ملی
    ٢٢۔ ویب سائیٹس
    ٢٣۔ ایضا
    ٢٤۔ ایضا
    ٢٥۔ ایضا
    ٢٦۔ چترال میں اردو زبان میں مناجات میں رحمت عزیز کے علاوہ کسی اور شاعر نے طبع آزمائی نہیں کی ہے۔
    ٢٧۔ ۔چترالی، رحمت عزیز، گلدان رحمت(اردو طنزیہ و مزاحیہ کلام) ناشر کھوار اکیڈمی کراچی ١٩٩٦
    ٢٨۔ ایضا
    ٢٩۔ ایضا
    ٣١۔ ایضا
    ٣٢۔ ایضا
    ٣٣۔ ایضا
    ٣٤۔ انٹرنیٹ
    ٣٥۔ ایضا
    ٣٦۔ گلشاد انصاری کی آزاد نظم دستیاب نہ ہوسکی
    ٣٧۔۔چترالی، رحمت عزیز، گلدان رحمت(اردو طنزیہ و مزاحیہ کلام) ناشر کھوار اکیڈمی کراچی ١٩٩٦
    ٣٨۔ ایضا
    ٣٩۔ ایضا
    ٤٠۔ چترال میں اردو زبان میں رحمت عزیز کے رباعی کے علاوہ اور کوئی رباعی نہیں ملی
    ٤١۔ پہلا اردو گیت بھی رحمت عزیز کا تحریر کردہ ہے
    ٤٢۔ تلاش بے سیار کے بعد صرف ایک ہائکو دستیاب ہوسکا
    ٤٣۔ چترال میں اردو زبان میں پہلا ماہیا بھی رحمت عزیز چترالی کا تحریر کردہ ہے
    ٤٤۔ ایضآ
    ٤٥۔ چترال میں سی حرفی کو رحمت عزیز چترالی نے متعارف کروایا ہے
    ٤٦۔ اردو میں عارفانہ کلام بھی رحمت عزیز چترالی ہی کا ملتا ہے
    ٤٧۔ ۔چترالی، رحمت عزیز، گلدان رحمت(اردو طنزیہ و مزاحیہ کلام) ناشر کھوار اکیڈمی کراچی ١٩٩٦
    ٤٨۔ ایضا
    ٤٩۔ ایضا
    ٥٠۔ ایضا
    ٥١۔ ایضا
    ٥٢۔ ایضا
    ٥٣۔ انٹرنیٹ
    ٥٤۔ چترال میں اردو زبان کا پہلا نوحہ بھی رحمت عزیز چترالی کا تحریر کردہ ہے۔
    ٥٥۔ پہلا دوہا بھی رحمت عزیز چترالی کا تحریر کردہ ہے
    ٥٦۔ پہلا چار بیتہ بھی رحمت عزیز کا تحریر کردہ ہے
    ٥٧۔ پہلا یک مصرعہ کے موجد رحمت عزیز چترالی ہیں
    ٥٨۔ پہلا مسدس بھی رحمت عزیز چترالی کا تحریر کردہ ہے


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: